دلخراش سانحہ سیالکوٹ میں ملوث افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج، 118 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔معاون خصوصی وزیرِ اعلیٰ و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور

دلخراش سانحہ سیالکوٹ میں ملوث افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج، 118 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔معاون خصوصی وزیرِ اعلیٰ و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور
وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب خود سارے کیس کی نگرانی کر رہے ہیں، گرفتار ملزمان کو عبرتناک سزا دلوائی جائے گی۔ ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور
کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت ترین ایکشن کی ہدایت کی، جو بھی کوتاہی کا مرتکب ہوا ایکشن لیا جائے گا۔ حسان خاور
پنجاب پولیس نے 24 گھنٹوں سے کم وقت میں 13 مرکزی ملزمان کو گرفتار کیا، سی سی ٹی وی فوٹیج سے معاونت ملی۔ آئی جی پنجاب
پولیس نے 200 سے زائد چھاپے مارے، ڈی پی او سیالکوٹ نے موقع پر پہنچ کر مشتعل ہجوم کو قابو کیا، ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے فوری اقدامات اٹھائے گئے۔ آئی جی پنجاب
سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ اور متعلقہ سینیئر حکام نے آپریشن میں حصہ لیا، واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کرکے مزید پہلو سامنے لائیں گے۔ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان

معاون خصوصی وزیرِ اعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں ہونے والے دلخراش واقعے میں ملوث افراد کے خلاف پولیس کی مدعیت میں قتل اور دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں دو سو سے زائد ریڈز کرتے ہوئے اب تک 118 افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں واقعے میں ملوث 13 مرکزی ملزمان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار خود سارے کیس کی نگرانی کر رہے ہیں، اس واقعہ میں گرفتار ملزمان کو عبرتناک سزا دلوائی جائے گی۔ معاون خصوصی وزیر اعلیٰ و ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے سخت ترین ایکشن کی ہدایت کی ہے۔ اس المناک واقعہ میں جو بھی کوتاہی کا مرتکب ہوا اس کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو پہلی کال موصول ہونے سے لیکر موقع پر پہنچنے تک کے مرحلے کی بھی محکمانہ انکوائری کی جا رہی ہے اور تاخیر اور غفلت سامنے آنے پر سخت کاروائی کی جائے گی۔ حسان خاور نے قوم کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ پر نا صرف غیر جانبدار انصاف ہو گا بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔
ان خیالات کا اظہار معاونِ خصوصی وزیرِ اعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے آئی جی پنجاب راؤ سردار کے ہمراہ ڈی جی پی آر آفس میں سیالکوٹ واقعہ کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس راؤ سردار علی خان نے کہا کہ پنجاب پولیس نے 24 گھنٹوں سے کم وقت میں کاروائی کرتے ہوئے 13 مرکزی ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ اس ضمن میں 160 سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کردہ 12 گھنٹے سے زائد کی فوٹیجز اور موقع پر موجود افراد کے موبائل ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو پہلی کال موصول 11:28 پر ہوئی جس پر 11:45 پر تھانہ اگوکی کے ایس ایچ او اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ ان کے پہنچنے تک سری لنکن شہری کی ہلاکت ہو چکی تھی۔ واقعہ کی اطلاع پر ڈی پی او سیالکوٹ اور ایس ایس پی سیالکوٹ بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور مشتعل ہجوم کو کنٹرول کرکے امن و امان قائم کیا۔ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ انہوں نے اطلاع ملتے ہی آر پی او گوجرانولہ کو موقع پر پہنچے کی ہدایت کی، پولیس نے بہترین حکمت عملی اپناتے ہوتے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 13 مرکزی ملزمان کو گرفتار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ  سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ اور متعلقہ سئنیر احکام نے آپریشن میں حصہ لیا اور اس وقت سینیر پولیس افسران کی ٹیم واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہیں پولیس تفتیش کے بعد مزید پہلو سامنے لائیں گے۔میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ ان ملزمان کے خلاف مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے گا اور پولیس تمام پہلوؤں سے تفتیش جلد مکمل کرکے انہیں چالان کے لیے پیش کرے گی تاکہ ملزمان کو جلد سے جلد سزا دلوائی جا سکے۔

(ہینڈ آؤٹ 265 )

اُسامہ محمود

ڈائریکٹر پبلک ریلیشن

پنجاب پولیس

***************************

 

Press Release Date: 
Saturday, December 4, 2021