لاہور (نامہ نگار) گزشتہ سال 2025ء کے دوران پنجاب پولیس نے خطرناک عادی، اشتہاری اور عدالتی مفرور مجرموں کے خلاف بھرپورمؤثر اور ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن کیا۔جس کے دوران صوبہ بھر میں سنگین جرائم میں مطلوب ایک لاکھ 45 ہزار 506 اشتہاری مجرمان کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں 50 ہزار سے زائد اے کیٹیگری جبکہ 98 ہزار سے زائد بی کیٹٹیگری کے اشتہاری شامل ہیں۔ پنجاب پولیس نے 53 ہزار 297 عدالتی مفرور بھی گرفتار کیے جن میں 13 ہزار سے زائد اے کیٹیگری اور 40 ہزار 270 بی کیٹیگری کے عدالتی مفرور شامل ہیں۔کریک ڈاؤن کے دوران 30 ہزار 788 ٹارگٹ آفینڈرز (عادی مجرم) کو بھی گرفتار کیا گیا جن میں 12 ہزار 644 اے کیٹیگری اور 18 ہزار 144 بی کیٹیگری کے عادی مجرم شامل ہیں۔ 89 خطرناک اشتہاری مجرمان کو بیرونِ ملک سے گرفتار کر کے پاکستان منتقل کیا گیا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے 31 ہزار 967 اشتہاری مجرمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں 19 ہزار 828 عدالتی مفرور اور 12 ہزار 131 ٹارگٹ آفینڈرز شامل ہیں۔ پولیس انویسٹی گیشن برانچ پنجاب نے سال 2025ء کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں 11 لاکھ 20 ہزار 711 مقدمات درج کئے گئے، جن میں سے 10 لاکھ 72 ہزار 976 مقدمات کے چالان مکمل کر کے عدالتوں میں جمع کروائے گئے۔
پنجاب پولیس نے سال 2025ء کے دوران 11 لاکھ 2 ہزار 724 ملزمان کو گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیا۔ کیٹیگری اے کے 49 ہزار 696 اشتہاری ملزمان گرفتار کئے گئے، جن میں 3 ہزار 942 قتل،3 ہزار 6 ڈکیتی، 4 ہزار 232 رابری، 213 ڈکیتی قتل اور 109 اغواء برائے تاوان کے ملزمان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بی کیٹیگری کے 98 ہزار اشتہاری ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ 45 ہزار کرائم سین وزٹس کئے جبکہ 34 ہزار شواہد اکٹھے کئے گئے۔ فنگر پرنٹ بیورو پنجاب کو 5 ہزار 940 کیسز موصول ہوئے۔جن میں سے 293 ملزمان کے فنگر پرنٹس میچ کئے گئے جبکہ ناقص تفتیش پر 6 ہزار 636 افسران کو سزائیں دی گئیں۔ ایک لاکھ 62 ہزار تفتیشی افسران عدالت عالیہ میں ریکارڈ لے کر پیش ہوئے۔ انویسٹی گیشن برانچ پنجاب کو تبدیلی تفتیش کے 556 کیسز موصول ہوئے۔ جن میں سے 535 کیسز زیر بحث آئے اور 130 کیسز میں تبدیلی تفتیش کی گئی۔ جنسی جرائم کی مؤثر تفتیش کے لئے پنجاب بھر میں 263 سپیشل انویسٹی گیشن یونٹس قائم کئے گئے۔ جن میں 2 ہزار 46 افسران کو خصوصی تربیت دے کر تعینات کیا گیا۔
(روز نامہ نوائےوقت)
************************
