Sep 21, 2025
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس میں اہم ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب شہزادہ سلطان، ڈی آئی جی ایس پی یو اینڈ ویلفیئر غازی محمد صلاح الدین، اے آئی جی آپریشنز، اے آئی جی ڈویلپمنٹ اور اے آئی جی ایڈمن اینڈ سکیورٹی سمیت دیگر افسران موجود تھے جبکہ ساہیوال اور شیخوپورہ ریجنز کے آر پی اوز، ڈی پی اوز اور ڈسٹرکٹ ٹریفک افسران، کمانڈنٹ پی سی ایڈیشنل آئی جی سید خرم علی، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر اور ڈی آئی جی آئی ٹی رانا منصور الحق نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ آئی جی پنجاب نے کرائم کنٹرول، ٹریفک حادثات اور اوورلوڈنگ کے تدارک، لائسنسنگ میں اضافے، سائبان، سیمولیٹرز اور شہری سہولیات سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ساہیوال اور شیخوپورہ ریجن کے آر پی اوز کو پولیس کانسٹیبلری میں نفری کی کمی پورا کرنے کی ہدایت دی اور ہرمس و پی ایس آر آئی ایم ایس میں درست ڈیٹا اور مستند ریکارڈ انٹری کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔ ڈاکٹر عثمان انور نے پینڈنگ روڈ سرٹیفیکیٹس کی تکمیل اور ای-گیجیڈ، ای-پوسٹ، سمارٹ آئی، ٹینٹ رجسٹریشن سمیت تمام پولیس ایپس کے مؤثر اور درست استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے ڈی پی اوز اور سپیشل پروٹیکشن یونٹ کو ہدایت دی کہ باہمی مشاورت سے سرکاری و نجی پراجیکٹس پر کام کرنے والے چینی ماہرین اور باشندوں کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
آئی جی پنجاب نے ساہیوال اور شیخوپورہ ریجن کے اضلاع میں پولیس ڈویلپمنٹ سکیموں پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ ڈکیتی، راہزنی، موٹر سائیکل و وہیکلز چوری کے تدارک اور ریکوری میں اضافہ ترجیحی ہدف ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبا و طالبات اور شہریوں کو نئے کرائم ٹرینڈز کے حوالے سے آگاہی مہم کے ذریعے حفاظتی تدابیر سے باخبر کیا جائے۔ کیٹیگری اے کے اشتہاریوں کی گرفتاری، منشیات کیسز میں مؤثر چالاننگ اور اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت فوری ایف آئی آر کے اندراج، میرٹ پر تفتیش سے مجرمان کو سخت سزائیں یقینی بنائی جائیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ جرائم کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دورانِ ڈیوٹی حادثات میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کا بہترین علاج معالجہ اور مالی کفالت بھی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔
(روز نامہ نئی بات)
*********************
