ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری ہیں جن کے ذریعے ہماری بہادر سکیورٹی فورسز امن دشمنوں کو ان کے حقیقی انجام تک پہنچا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی تین کارروائیوں کے دوران 19 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ 6 اور 7 جنوری کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے پشاور کے علاقے متنی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن کے نتیجے میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔ ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع مہمند کے علاقے بائیزئی میں کیا گیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز نے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اسی نوعیت کی تیسری کارروائی ضلع کرک میں کی گئی جہاں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ اس موقع پر فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار بھی شہید ہوگئے۔ علاقے میں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت عطا کرتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں کی جانے والی مذکورہ کارروائیوں کے علاوہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں پولیس نے بھی دہشت گردوں کے خلاف ایک کارروائی کی۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق، خیبر پختونخوا بارڈر کے قریب دہشت گردوں کے دو ٹھکانے گرا دیے گئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں تین مختلف کارروائیوں کے دوران 19 دہشت گردوں کو مارنے پر سکیورٹی فورسز خراج عقیدت پیش کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ فورسز اور قوم کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جانی چاہئیں۔ دہشت گردی کا ناسور ختم کرکے ہی ملک کی ترقی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ معاشی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے کہ ملک سے ایسے عناصر کا خاتمہ کیا جائے جو لوگ کے لیے خوف اور دہشت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔
(روز نامہ نوائے وقت)
********************