سنٹرل ایپکس کمیٹی میں صوبوں میں سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے گا

Jan 03, 2025

لاہور(آصف محمود بٹ ) نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی حکومت کی سنٹرل ایپکس کمیٹی کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا جس میں پنجاب اور دیگر صوبوں میں سیکیورٹی اور قانون کے نفاذ کو بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری پنجاب کمیٹی کو کئی اہم ایجنڈا آئٹمز پر بریفنگ دیں گے جن میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کے منصوبے اور پولیسنگ اور عوامی تحفظ کو بڑھانے کے لیے افرادی قوت کی بھرتی شامل ہے۔پنجاب کے حوالے سے ایجنڈے میں ایک اہم چیز سیف سٹیز پراجیکٹس کا قیام ہے جس پر کل 21 ارب روپے خرچ ہونگے جن میں سے گوجرانوالہ، فیصل آباد اور راولپنڈی میں پنجاب پولیس انٹیگریٹڈ کمانڈ، کنٹرول، اینڈ کمیونیکیشن (PPIC3) سینٹرز کے قیام پر 10ارب بھی شامل ہے جس پر 80فیصد کام مکمل کیا جاچکاہے۔18 اضلاع میں اسمارٹ سیف سٹیز کے پہلے فیز پر 5 ارب روپے لاگت آرہی ہےجبکہ دوسر ے فیز میں جس کا بجٹ 5.6 ارب روپے ہے میں 19اضلاع شامل ہوں گے۔سنٹرل اپیکس کمیٹی اجلاس میں کمیٹی پنجاب پولیس فورس کی توسیع اور خاص طور پر پنجاب میں رائٹ مینجمنٹ پولیس (RMP) یونٹ کی تشکیل پر بھی بریفنگ دی جائیگی جو 5ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہوگی۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے تجویز کردہ "پرامن احتجاج کے حق کا ایکٹ، 2024" کا مسودہ زیر غور آئیگا جس میں 2ہزار نئے افسران کی بھرتی اور 3 ہزار موجودہ اہلکاروں کو فورس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختص کرنے کا منصوبہ ہے۔ میٹنگ میں پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) کے لیے 6 کانسٹیبلوں کی بھرتی کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ اتھارٹی میں 5ہزار افراد کی بھرتیوں کے بارے بھی اپیکس کمیٹی کو بتایا جائیگا۔ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں بارڈر ملٹری پولیس (BMP) اور بلوچ لیوی کی استعداد کار بڑحانے اور اسے مزید مضبوط کرنے کے لئے 50کروڑ روپے کے اجراء اور مذکورہ اضلاع میں بارڈر ملٹری پولیس (BMP) اور بلوچ لیوی میں 960خالی آسامیوں پر بھرتی کے لئے پابندی میں نرمی بارے بھی بتایا جائیگا۔ ان اداروں میں 1998کے اب تک کوئی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔

(روز نامہ جنگ)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭