آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی لاہور پولیس کے غازی کانسٹیبل محمد آصف سے ملاقات،
آئی جی پنجاب نے بہادر کانسٹیبل کو گلے لگایا، خیریت دریافت کرتے ہوئے شاباش دی،
کانسٹیبل محمد آصف نے گذشتہ ماہ ٹیم کے ہمراہ مقابلے کے دوران سنگین وارداتوں میں مطلوب 04 ڈاکوؤں کو کیفرکردار تک پہنچایا تھا۔
خطرناک ڈاکوؤں کو کیفر کردار تک پہنچانے والے لاہور پولیس کے غازی اہلکار محمد آصف کی فیملی کے ہمراہ سنٹرل پولیس آفس میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے ملاقات کی۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران موقع پر موجود تھے۔ آئی جی پنجاب نے بہادر کانسٹیبل محمد آصف کو گلے لگایا، خیریت دریافت کی اور شاباش دی۔ کانسٹیبل محمد آصف نے گذشتہ ماہ ایس ایچ او گرین ٹاؤن کی قیادت میں ٹیم کے ہمراہ لاہور کے علاقے فیروز پارک میں مقابلے کے دوران سنگین وارداتوں میں مطلوب 04 ڈاکوؤں کو کیفرکردار تک پہنچایا تھا۔ ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران کانسٹیبل محمد آصف کو پسلی میں گولی لگی جو جسم سے آر پار ہو گئی تاہم محمد آصف نے شدید زخمی ہونے کے باوجود بہادری سے ڈٹ کر ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا، ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران ایس ایچ او تھانہ گرین ٹاؤن خرم شہزاد بازو پر گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ کانسٹیبل محمد آصف، ایس ایچ او تھانہ گرین ٹاؤن اور ٹیم نے جانیں خطرے میں ڈال کر خطرناک گینگ کا مقابلہ کیا ان کا جذبہ اور بہادری قابل ستائش ہے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے بہادر پولیس اہلکار کے لئے تعریفی سند اور کیش ایوارڈ کا اعلان کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے آئی جی پنجاب کو پولیس مقابلے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بین الاضلاعی شوٹر گینگ کرائے پر گھر حاصل کرکے رینٹ کی کار، چھینی گئی موٹر سائیکلز کے ذریعے وارداتیں کرتے، ملزمان پنجاب کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ریسکیو 1122 کی وردیاں پہن کر ڈکیتی کرتے تھے، خطرناک ملزمان پیسوں کے عوض قتل، بنک کیش رابری، موٹر سائیکل چھیننے اور رابری کی وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔ ملزمان کے خلاف لاہور، پاکپتن، اوکاڑہ، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، وہاڑی، خانیوال اور ملتان سمیت مختلف تھانوں میں 36 سے زائد مقدمات درج تھے۔
(ہینڈ آؤٹ نمبر1206)
سیدمبشر حسین
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
***************************
