پنجاب پولیس کے سرکاری فنڈز اور اکاؤنٹس کا معاملہ،

پنجاب پولیس کے سرکاری فنڈز اور اکاؤنٹس کا معاملہ،
معاملہ مالی بے ضابطگی یا خرد برد کا نہیں بلکہ آڈٹ اعتراضات پر مبنی ہے، ترجمان پنجاب پولیس
 
پنجاب پولیس کے سرکاری فنڈز اور اکاؤنٹس کا معاملہ مالی بے ضابطگی یا خرد برد کا نہیں بلکہ آڈٹ اعتراضات پر مبنی ہے، ترجمان پنجاب پولیس نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کے سرکاری فنڈز پرائیویٹ اکاونٹس میں رکھنے کا تاثر درست نہیں ہے۔محکمہ پولیس پہلے ہی آڈٹ اعتراضات کا مفصل جواب متعلقہ فورم پر جمع کروا چکا ہے۔پنجاب پولیس کے تمام تر ڈی ڈی او اکاؤنٹس محکمہ خزانہ سے منظور شدہ ہیں۔ متعلقہ اکاونٹس پرائیویٹ نہیں بلکہ اخراجات کے استعمال کے لئے آفیشل ڈی ڈی او اکاؤنٹس ہیں۔پنجاب پولیس حکومت پنجاب کی طرف سے بجٹ میں ملنے والے فنڈز اخراجات کیش کی صورت میں ہرگز نہیں کرتی جبکہ تمام اخراجات کے بل بنا کر محکمہ خزانہ کو منظوری کے لئے بھجوائے جاتے ہیں اوراخراجات کے بل محکمہ خزانہ کی منظوری کے بعد براہ راست متعلقہ کمپنیوں اور وینڈرز کو بھجوائے جاتے ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس نے کہا کہ پنجاب پولیس اپنے اخراجات سمیت تمام مالی امور میں زیرو کیش پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ملازمین سے متعلقہ  ادائیگیوں کے چیک سمیت بجلی پانی گیس پٹرول کے بل براہ راست محکمہ خزانہ کے منظور شدہ اکاؤنٹس میں جمع کروائے جاتے ہیں اوراخراجات کے تمام بل بذریعہ چیک بنک اکاؤنٹس اور وینڈرز کو دیئے جاتے ہیں۔پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے لئے بھی محکمہ خزانہ کا منطور شدہ آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹ (AAA) قائم ہے اور سیف سٹیز اتھارٹی کے تمام فنڈز محکمہ خزانہ کے اس منظور شدہ اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوتے ہیں جبکہ سیف سٹیز اتھارٹی کے اخراجات کی باقاعدہ منظوری اور تصدیق کے بعد چیک کی صورت میں ادائیگی کی جاتی ہے۔
 

(ہینڈ آؤٹ  نمبر1123)

سیدمبشر حسین

ڈائریکٹر پبلک ریلیشن

پنجاب پولیس

***************************

Press Release Date: 
Wednesday, November 13, 2024