لاہور(رپورٹ: آصف محمود بٹ ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف سے پروونشل پولیس کمپلینٹ اتھارٹی کے قیام جرات مندانہ اور عوام دوست فیصلہ اور پولیس اصلاحات کی طرف ایک اہم قدم ہے ۔ تقسیمِ ہند سے قبل انگریز دورِ حکومت میں 1860جبکہ مشرف دور میں پولیس آرڈر 2002ء کے تحت محکمہ پولیس میں بڑی اور اہم اصلاحات کی گئیں لیکن پولیس کے خلاف عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ’’صوبائی پولیس کمپلینٹ اتھارٹی‘‘ کا قیام پی ٹی آئی کی حکومت نہ کر سکی۔ سابق حکمراں جماعت پی ٹی آئی نےحکومت میں آنے کے بعد ستمبر 2019 پنجاب پولیس میں اصلاحات لانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں اپنی تجاویز پیش کیں مگر نئے تجویز کردہ نظام پر پولیس افسران کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ پولیس کو بد انتظامی سے بچانے کے حوالے سے دی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ افسران کی تعیناتی (ڈی پی او، آر پی او اور ایڈیشنل آئی جی) کے لیے سینیئر افسران پر مشتمل بورڈ بنایا جائے گا۔ یہ بورڈ افسران کی کارکردگی اور ان سے متعلق رپورٹ آئی جی پنجاب کو دے گا جو تین افسران کے نام وزیر اعلیٰ کو بھجوائیں گے۔ حکومت جواز پیش کر کے کسی بھی افسر کا قبل از وقت ٹرانسفر بھی کر سکے گی۔
(روز نامہ جنگ)
**********************