لاہور ( جنرل رپورٹر ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نےستھرا پنجاب کے تحت پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ بھر میں بیک وقت ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کر دیا اور ڈپٹی کمشنر ز کو آج اور ابھی سے ویسٹ مینجمنٹ پر کام شروع کرنے کا حکم دیا ہے-ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے تحت ہر جگہ سے کوڑا کرکٹ اٹھایا جائے گا-ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے تحت گلی محلوں کی صفائی اور سپرے بھی ہوگا -وزیراعلی ویسٹ مینجمنٹ سسٹم پائلٹ پراجیکٹ کی خود نگرانی کریں گی-اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کو ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کی نگرانی کا ٹاسک سونپ دیا -وزیراعلی نے روزانہ صبح 5بجے سڑکیں دھونے کاحکم دیا ہے اور ڈپٹی کمشنرز کو ہسپتالوں،مراکز صحت اورسکولوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی ہدایت کی ہے-وزیراعلی نے مین ہول کے ڈھکن غائب ہونے اور آوارہ کتوں کے کاٹنے سے بچوں کے جاں بحق ہونے پربرہمی کا اظہار کیا-سیف سٹی کیمروں کے ذریعے صفائی کی صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کی ہدایت بھی کی-وزیراعلی نے کہاکہ ڈپٹی کمشنر ہر جگہ خود نہیں جاسکتے تو ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کریں -میری گورننس کا ماڈل ڈپٹی کمشنر آفس کی مستعدی ہے- ، ندی نالوں میں گندگی او رملبہ ڈالنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی اور صفائی کا حکم اورصوبہ بھر میں ویسٹ مینجمنٹ ورکرز کی یکساں یونیفارم او رمشینری کی برانڈنگ کی ہدایت کی-وزیراعلی نے کہا میری گورننس کا دائرہ کار صوبہ بھر کی ہر گلی اور محلے تک وسیع ہوگا-حکومت کو ہرشہر، دیہات کے گلی محلے میں نظر آنا چاہیے-کسی گلی محلے میں گندگی،گڑھے، بند سٹریٹ لائٹس، آوارہ کتے نظر آنا ناکامی کے متراد ف ہے -سڑکوں پر گڑھے دیکھ کر لوگ حکومت کو کوستے ہیں -صفائی کے لئے چارج کریں گے تو لوگ بہتر سروس کی توقع رکھیں گے۔ہر شہر کی چھوٹی بڑی سڑکوں پر گڑھے جلد ازجلد ختم کئے جائیں -
ڈپٹی کمشنرز پر کام کا پریشر ہے اور میرے اوپر عوام کی توقعات کا بوجھ ہے- مہنگائی کاخاتمہ اور صفائی میری ترجیحات میں سرفہرست ہے-ڈیش بورڈ کے ذریعے ہر محکمے او رضلع کی کارکردگی کا مانیٹرنگ کررہی ہوں -نشاندہی کے باوجود شکایات حل نہ ہونا افسوسناک ہے، ازالے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں بارشوں کے موسم میں محکموں کی کارکردگی تسلی بخش رہی-حکمران اختیارات لیتے ہیں میں نے اپنے اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو سونپ دئیے -پنجاب میں کوئی بھی تعیناتی میرٹ کے سوا نہیں ہوتی ،ووزیر اعلیٰ نے اپنے ویژن،ʼʼمیرا پنجاب۔۔۔ محفوظ سے محفوظ ترʼʼ کے تحت8بڑے اقدام کا آغاز کردیاہے،وزیراعلیٰ نے پاکستان کے پہلے چائلڈ سیفٹی ورچوئل سینٹر کا افتتاح کردیا۔28 نئے فیچر سے مزین ایمرجنسی ون فائیو اپ گریڈڈ سنٹر کا بھی آغازکردیا۔ون فائیو کا وٹس ایپ نمبر 03370000015 بھی متعارف کرادیا۔پینک بٹن سیفٹی زون کا آغازکردیا اور پولیس کی مدد حاصل کرنے کے لئے صرف پینک بٹن کے کیمرے کے قریب آنا ہوگا۔ سکول آف پولیس ٹیکنالوجیز اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اورالبیرونی انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ انوویشن کا افتتاح کردیا۔وزیراعلیٰ نے سیف سٹی اتھارٹی آڈیٹوریم کا افتتاح اورسیف سٹی کی جدید ویڈیو وال کا آغاز کردیا۔وزیر اعلیٰ نے گرلز پولیس کیمیونیکشن آفیسر کے ساتھ ملکر سیف سٹی وویمن ہوسٹل کا سنگ بنیاد رکھا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سیف سٹی وویمن ہوسٹل کی تکمیل کیلئے جنوری 25 کی ڈیڈ لائن مقررکی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے تین دن سے گھر سے دور سپیشل بچے کو ریسکیو کرنے والی کیمیو نیکشن آفیسر کو دوران خطاب پاس بلا لیااورانٹرن شپ کے لئے موجود طلبا اور طالبات سے بھی فیڈ بیک لیا۔ وزیر اعلیٰ نے پنجاب 15 سینٹر کی نئے ایمرجنسی -15 ڈیمو مرکز ، سیف سثی میں قائم ٹریفک سینٹر کا دورہ بھی کیا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سیف سٹی کیمروں سے ٹریفک مانیٹرنگ کا بھی مشاہدہ کیا۔آئی جی ڈاکٹر عثمان انور اور ایم ڈی احسن یونس نے بریفنگ دی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پولیس کیمونٹی افسروں سی بات چیت کی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ ون فائیو ایمرجنسی میں نئے 28 فیچر متعارف کرائے گئے۔ ون فائیو پراردو، انگلش اور علاقائی زبانوں میں گفتگو کی سہولت متعارف کرادی گئی۔ روبو کال کے ذریعے کالر سے فیڈ بیک لیا جاسکے گا۔کالر کی مدد پر متعین پولیس وین کی لوکیشن رسپانس ٹائم اور فیڈ بیک بھی لیا جاتا ہے۔بریفنگ میں بتایاگیا کہ سیف سٹی میں 204 بیڈکا دومنزلہ وویمن ہوسٹل بنایا جائے گا ،وزیراعلیٰ نے سیف سٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی نے میری توقعات سے بڑھ کر کام کیا ہے۔میں ماں ہوں میری دو بیٹیاں ہیں،ماں باپ کیلئے بچیوں کو دوسرے شہر میں بھیجنا مشکل فیصلہ ہوتا ہے،خصوصاً جب رہائش کا اچھا بندوبست نہ ہو۔سیف سٹی کے پہلے دورے پر بچیوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہاسٹل نہ ہونے کا بتایا،الحمدللہ ان کا بہترین ہاسٹل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔سیف سٹی میں ورکنگ ویمن کاہاسٹل تیزی سے بنتے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔خواتین کیلئے سیف سٹی ہاسٹل کی تکمیل کی ڈیڈ لائن مارچ2025تھی لیکن انشاء اللہ جنوری 2025تک مکمل ہوجائے گا۔
خواتین کیلئے سیف سٹی ہاسٹل میں بچیاں تحفظ میں رہیں گی اوروالدین بھی مطمئن رہیں گے۔ سیف سٹی میں آئے روز بہتری آرہی ہے،روزنئے فیچرزمتعارف کیے جارہے ہیں، عوام کو سیفٹی مل رہی ہے اورحکومت پر اعتماد بھی بحال ہورہاہے۔ سیف سٹی محمد نوازشریف،شہبازشریف اورپی ایم ایل این کا برین چائلڈ ہے۔شہبازشریف صاحب نے سیف سٹی لانچ کیا،شہبازشریف صاحب سے کہنا چاہتی ہوں کہ ان کی بیٹی سیف سٹی کو پورے پنجاب میں پھیلائے گی۔آئندہ چند ماہ میں 18مزیدشہروں میں سیف سٹی فنکشنل ہوجائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام کو کہتی ہوں کہ ا یمرجنسی کی صورت میں 15پر کال کرے اوراپنی شکایات درج کرائیں،ہم رسپانڈکریں گے ،سیف سٹی نے واٹس ایپ نمبربھی لانچ کردیا ہے،03370000015 پرواٹس ایپ کال کرسکتے ہیں ۔خواتین کیلئے پینک بٹن لانچ کیا ہے جو کہ ایک سیفٹی زون ہے،کسی کو بھی مدد کی ضرورت ہے وہ پینک بٹن دبائے، کیمرہ آپ کو دیکھ رہا ہوگا اور پولیس جلد ازجلد آپ کی مدد کو پہنچیں گی ، وزیراعلی پنجاب نے زرعی ٹیوب ویل سولررائزیشن پراجیکٹ کی بھی منظوری دے دی- وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں زرعی ٹیوب ویل کی سولر رائزیشن پر بریفنگ کے دوران بتایا گیاکہ 25 ایکڑ اراضی کے مالک کاشتکار زرعی ٹیوب ویل سولر رائزیشن پراجیکٹ کے اہل ہوں گے -سولررائزیشن پراجیکٹ کے لئے کاشتکار کو صرف 33فیصدادائیگی کرنا ہو گی- زرعی ٹیوب ویل سولر رائزیشن پراجیکٹ کی67فیصد ادائیگی حکومت کرے گی ،وزیراعلی مریم نوازشریف نے ٹماٹر،پیازسمیت دیگر ضروری سبزیوں کی سپلائی مینجمنٹ کا پائیدار سسٹم وضع کرنے کاحکم دیا اور کہاکہ کسانوں کا مہنگی بجلی کا مسئلہ حل کریں گے ۔
(روز نامہ جنگ)
*************************