Jun 21, 2024
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہاہے کہ پنجاب پولیس ایک فیملی کی مانند ہے جس کے ہر رکن اور اسکے اہل خانہ کو درپیش مشکلات و مسائل کا ازالہ اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ تمام سپروائزری افسران ماتحت سٹاف کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور انکی درخواستوں اور مشکلات کے ازالے کیلئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں پولیس ملازمین اور انکے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ آئی جی پنجاب نے پولیس ملازمین کی پیش کردہ درخواستیں سن کر ریلیف بارے احکامات جاری کئے۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب نے بطور اسسٹنٹ خدمات سر انجام دینے والی عصمت شہزادی کی ٹیلی کمیونیکیشن کی بجائے پی ایچ پی میں تبادلے کی درخواست پر ڈی آئی جی ایلیٹ کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ سب انسپکٹر رئیس شہزاد خان کی محکمانہ پروموشن درخواست پر ایڈیشنل آئی جی پنجاب کو ریلیف فراہمی کیلئے بھجوا دی۔ڈاکٹر عثمان انو رنے اے ایس آئی ارشاد خان مرحوم کی اہلیہ کی جانب سے بیٹے کی فیملی کلیم پر بھرتی کی درخواست پر اے آئی جی ایڈمن کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت دی، اے ایس آئی احسان علی کی لاہور سے نارووال تبادلے کی درخواست کاروائی کیلئے ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ ون کو بھجوا دی۔آئی جی پنجاب نے کانسٹیبل ثاقب محمود کی فیملی کلیم پر بطور جونیئر کلرک بھرتی کی درخواست پر اے آئی جی ایڈمن کو میرٹ پر کاروائی کی ہدایت کی۔ سب انسپکٹر سائی خان ریٹائرڈ سمیت 06 دیگر اہلکاروں کی جانب سے لیو انکیشمنت کی درخواستوں پر ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ آئی جی پنجاب نے ویلفیئر، ریکروٹمنٹ اور پروموشن سے متعلقہ دیگر درخواستیں پر فوری ریلیف فراہمی کے احکامات جاری کئے۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ تمام افسران بھجوائی گئی درخواستوں پر ایکشن لے کر کارکردگی رپورٹس سنٹرل پولیس آفس بھجوائیں۔
(روز نامہ جہان پاکستان)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
