پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل عثمان انور کا یہ انکشاف کہ جڑانوالہ میں مسیحی عبادت گاہوں اور گھروں پر پچھلے دنوں ہونے والا مذموم حملہ دشمن ایجنسی کی سازش تھی، معاملے کے ایک نہایت قابل توجہ پہلو کو منظر عام پر لایا ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب نے صراحت کی کہ یہ بات کرکے اس واقعے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جارہا ہے بلکہ غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے تمام حقائق سامنے لانے کا عمل جاری ہے اور اس کیلئے تمام ریاستی ادارے باہمی تعاون سے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کے لیے نامزد ملزمان کو سامنے لا کر مقدمہ ختم کرنا بہت آسان تھا لیکن کیونکہ ہمیں اس معاملے کے پس منظر کا اندازہ تھا، اس لیے ہم نے اس کے تانے بانے ملانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ سرگودھا کے ایک گاؤں میں بھی قرآن کا ایک پارہ جلا کر مسجد کے باہر پھینکا گیا۔اس طرح کی کارروائیوں کو پورے ملک میں آگ لگانے کی سازش قرار دیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ سرگودھا میں اس واقعے کے بعد کمیٹییاں بنائی گئیں، معلوم کیا گیا کہ یہ پارے کہاں چھپے، کہاں کہاں بکتے ہیں، وہاں سے یہ پارے خریدنے والوں کی ویڈیوز حاصل کی گئیں، ان کمیٹیوں نے معلوم کرلیا کہ ان واقعات میں ملوث لوگ کون تھے، انہیں گرفتار کیا گیا، جب مزید تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ ایک دشمن ایجنسی سے ان کے روابط ہیں۔ اس طرح ہمارا یہ قیاس حقیقت میں بدل گیا کہ ہمارے دشمن ان مکروہ ہتھکنڈوں سے مسلمانوں اور مسیحی بھائیوں کو ایک دوسرے سے لڑانا چاہتے ہیں۔ آئی جی پنجاب کے مطابق اس کے بعد جڑانوالہ اور سرگودھا دونوں جگہ کے واقعات میں ملوث کلیدی افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ پنجاب پولیس کی یہ کارکردگی یقینا لائق تحسین ہے اور امید ہے کہ اس معاملے کے تمام حقائق جلد قوم کے سامنے لاکر ایسے واقعات کی روک تھام کا قابل اعتماد بندوبست کیا جاسکے گا۔
(روز نامہ جنگ)
************