آئی جی پنجاب کی کانسٹیبل شاہد ذوہیب، اس کی والدہ اور معالجین سے ملاقات،

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا نفسیاتی امراض کی علاج گاہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کا دورہ
آئی جی پنجاب کی کانسٹیبل شاہد ذوہیب، اس کی والدہ اور معالجین سے ملاقات،
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کانسٹیبل شاہد کو گلے لگایا،جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،
کسی کی بیماری کا مذاق بنانا، الزامات لگانا، میمز بنانا اس مریض اور اہل خانہ کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے، آئی جی پنجاب
پنجاب پولیس نے ایسے مسائل کا شکار شہریوں کی مدد کیلئے صوبہ بھر میں پولیس تحفظ سنٹرز بنائے ہیں۔ ڈاکٹر عثمان انور
لاہور 21 اگست: انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے نفسیاتی امراض کی علاج گاہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کا دورہ کیا اور زیر علاج کانسٹیبل شاہد ذوہیب، اس کی والدہ اور معالجین سے ملاقات کی۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کانسٹیبل شاہد کو گلے لگایا اور جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کی ماہر نفسیات ڈاکٹر اسد سے کانسٹیبل شاہد کے علاج معالجے بارے تفصیلی گفتگو کی، ڈاکٹر کے ساتھ ریکارڈ کروائے گئے اپنے پیغام میں آئی جی پنجاب نے کہا کہ کسی کی بیماری کا مذاق بنانا، الزامات لگانا، میمز بنانا اس مریض اور اہل خانہ کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے، آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ بائی پولر ڈس آرڈر قابل علاج مرض ہے، ایسے مریض کو میمزوار (memes war) کا حصہ بنانے کی بجائے اس کی صحتیابی کیلئے دعا کریں۔کانسٹیبل شاہد کا علاج بہترین ماہرین نفسیات کی زیر نگرانی جاری ہے اور وہ تیزی سے روبصحت ہے، آئی جی پنجاب نے بتایا کہ کانسٹیبل شاہد کو لاک اپ میں رکھنے کا دعوٰی غلط اور حقائق کے برعکس ہے،
ڈاکٹر اسد ڈی ایم ایس نے بتایا کہ کانسٹیبل شاہد کو اپنے آپ کو یا کسی اور مریض کو نقصان نہ پہنچانے سے بچانے کے لئے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے علیحدہ سیل میں رکھا گیا، حالت تسلی بخش ہونے پر جلد ہی کانسٹیبل شاہد کو روم سے وارڈ میں شفٹ کر دیا جائیگا،مزید بہتری پر اسے ادویات دے کر ڈسچارج کر دیں گے، ڈاکٹر اسد ڈی ایم ایس نے مزید کہا کہ مناسب تشخیص، علاج اور ماہرین نفسیات کی  مشاورت کے زیر نگرانی کانسٹیبل شاہد نارمل زندگی کی طرف لوٹ جائے گا۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پنجاب پولیس نے ایسے مسائل کا شکار شہریوں کی مدد کیلئے صوبہ بھر میں پولیس تحفظ سنٹرز بنائے ہیں، اپنی فیملی، گردونواح اور عزیز و اقارب میں ایسی صورتحال سے دوچار شخص کو مریض سمجھیں، اسکے علاج میں معاون بنیں، آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ ایسے مریض کی اطلاع قریبی پولیس تحفظ سنٹر میں دیں تاکہ ان کا مناسب علاج کروایا جا سکے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پولیس تحفظ مرکز سے یہ افراد متعلقہ معالجین کے پاس پہنچ جائیں گے جہاں ان کا علاج شروع ہو جائے گا۔ پنجاب پولیس ایسے افراد کے علاج میں طبی ماہرین کو ہر ممکن تعاون و سپورٹ فراہم کرے گی۔
 

 

(ہینڈ آؤٹ  نمبر 541 )

سیدمبشر حسین

ڈائریکٹر پبلک ریلیشن

پنجاب پولیس

***************************

Press Release Date: 
Monday, August 21, 2023