لاہور(نامہ نگار)پنجاب پولیس نے محرم الحرام کا سکیورٹی پلان تیار کرلیا ہے۔صوبہ بھر میں منعقد 37376 مجالس کی سکیورٹی کےلئے 109565 اہلکار اور66797 رضا کار جبکہ9351 جلوسوں کی سکیورٹی کے فرائض 115180 اہلکار اور 45565 رضا کار سر انجام دیں گے۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں 3868 مجالس کی سکیورٹی کے فرائض 20788 افسران و اہلکار جبکہ عشرہ محرم کے 364 جلوسوں کی سکیورٹی کےلئے 10 ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات ہوں گے۔ ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ صوبہ بھر میں منعقدہ 37376 مجالس کی سکیورٹی کےلئے 109565 سے زائد افسران و اہلکار اور 66797 والنٹیرز فرائض سرانجام دیں گے، صوبائی دارالحکومت لاہور میں 3868 مجالس کی سکیورٹی کے فرائض 20788 افسران و اہلکار سر انجام دیں گے۔صوبہ بھر میں منعقدہ9351 جلوسوں کی سکیورٹی کے فرائض 115180 افسران و ماہلکار اور 45565 والنٹیرز سر انجام دیں گے جبکہ لاہور میں عشرہ محرم کے 364 جلوسوں کی سکیورٹی کیلئے 10 ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات ہونگے۔ سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ٹریفک پولیس سمیت دیگر فیلڈ فارمیشنز بھی محرم سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اپنے فرائض ادا کریں گی اور محرم سکیورٹی انتظامات میں ضلعی پولیس کو مکمل معاونت فراہم کریں گی۔
اے کیٹیگری جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی چیکنگ کےلئے سپروائزری افسران خود فیلڈ میں موجود رہیں جبکہ حساس جلوسوں کی سکیورٹی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے، واک تھرو گیٹس، میٹل ڈکٹیٹرز سمیت دیگر جدید آلات و ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے۔ خواتین عزاداروں کی سکیورٹی اور چیکنگ کیلئے لیڈی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور کمشنر لاہور محمد علی رندھا وا کی زیرِ صدارت پولیس لائنز، قلعہ گجر سنگھ میں محرم الحرام کے پرامن انعقاد کےلئے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محرم الحرام کے دوران قیام ِامن اورسکیورٹی انتظامات سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مجالس و جلوسوں کے منتظمین نے اجلاس کو محرم الحرام میں متوقع مسائل سے آگاہ کیا۔سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے منتظمین ِ مجالس و جلوس کی سکیورٹی، پیچ ورک، تجاوزات، لائٹس کی تنصیب، پارکنگ، مون سون موسم کے پیش نظر کھمبوں میں کرنٹ اور سوریج سمیت دیگر مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا نے امن و امان کے قیام کیلئے امن کمیٹی اور علما کرام کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بہترین انتظامات کروانے اورمسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
(روز نامہ نوائے وقت)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭