انویسٹی گیشن ونگ پنجاب کی مانیٹرنگ ٹیموں نے 40سنگین جرائم کے کیسز کی تفتیش مکمل کرا دی، چالان عدالتوں میں جمع۔
پولیس نے 97خطرناک مجرمان کو گرفتارکیا جبکہ بھاری مالیت کے طلائی زیورات، مال مسروقہ، گاڑیاں اور ناجائز اسلحہ برآمد۔
تفتیشی افسران پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ سے قریبی رابطہ رکھتے ہوئے ٹرائل کو جلد از جلد مکمل کروائیں۔ آئی جی پنجاب
گھریلو تشدد، استحصال، زیادتی سمیت دیگر صنفی جرائم کی شکار خواتین کی مدد و تحفظ کیلئے پنجاب پولیس کا احسن اقدام۔
آئی جی پنجاب نے خواتین کے تحفظ کیلئے سرگرم عمل 6 سرکاری و نجی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یوز) دستخط کر لئے۔
پنجاب پولیس نے خواتین کو قانونی و سماجی تحفظ اور مدد فراہم کرنے کیلئے صوبہ بھر میں ”تحفظ سنٹرز“ فعال کر دئیے۔ آئی جی پنجاب
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ قتل، ڈکیتی، زیادتی اور اغواء برائے تاوان کے مقدمات کی تفتیش کو روایتی مہارت کے ساتھ ساتھ جدید فارنزک سائنس کے موثر استعمال سے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور عادی و پیشہ ور مجرمان کو عدالتوں سے قرار واقعی سزائیں دلوانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ انویسٹی گیشن مانیٹرنگ یونٹس سنگین جرائم کے مقدمات کی تفتیش کی ڈیجیٹیل مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں جبکہ تفتیشی افسران پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ سے قریبی رابطہ رکھتے ہوئے ٹرائل کو جلد از جلد مکمل کروائیں تاکہ ظالموں کو سزائیں اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کا عمل مزید تیز ہو سکے۔آئی جی پنجاب کے احکامات پر انویسٹی گیشن ونگ پنجاب کی مانیٹرنگ ٹیموں نے 40سنگین جرائم کے کیسز کی تفتیش مکمل کراتے ہوئے چالان عدالتوں میں جمع کرادئیے ہیں۔ ان مقدمات میں ڈکیتی قتل، اغواء برائے تاوان، گینگ ریپ، بچوں اور خواتین سے زیادتی، اندھے قتل سمیت دیگر سنگین مقدمات شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بہاولنگر میں 16سالہ بچی سے گینگ ریپ اور وہاڑی میں لڑکی پر تیزاب پھینکنے کے واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے، ڈی جی خان میں دوران ڈکیتی سکیورٹی سپروائزر کو قتل کرنے والے 4ڈاکوؤں کو گرفتارکرکے چالان عدالت میں جمع کرادئیے گئے ہیں،اسی طرح مختلف اضلاع میں اندھے قتل کے 8، دوران ڈکیتی قتل و ریپ کے5اور دوہرے تہر ے قتل کے4، زیادتی، گینگ ریپ و بد فعلی کے 11، خواتین پر تیزاب گردی کے7، اور اغواء کا 1 جبکہ ڈکیتی راہزنی کے4 مقدمات کے چالان عدالت میں جمع کروادئیے گئے ہیں۔ پولیس نے ان مقدمات میں 97خطرناک مجرمان کو گرفتارکیا جبکہ بھاری مالیت کے طلائی زیورات، مال مسروقہ، گاڑیاں اور ناجائز اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے ملتان، ڈی جی خان، بہاولپور، ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد اور راولپنڈی کے سپروائزری افسران کواسی جذبہ سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ سماج دشمن عناصر اورملزمان کو عدالتوں سے قرار واقعی سزائیں دلواناہی جرائم کنٹرول کا اصل کلیہ ہے لہذاایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن سنگین ترین مقدمات کی تفتیش کی مانیٹرنگ کو انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز میں یقینی بنائیں اورتفتیش کے مراحل کو جلد از جلد مکمل کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔
مزید برآں پنجاب پولیس نے گھریلو تشدد، استحصال، زیادتی سمیت دیگر صنفی جرائم کی شکار خواتین کی مدد و تحفظ کیلئے 6 سرکاری و نجی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یوز) دستخط کئے ہیں۔ پنجاب پولیس کی جانب سے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور جبکہ ویمن پروٹیکشن اتھارٹی، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، سماجی تنظیم اخوت، دستک چیریٹیبل ٹرسٹ، بالی میموریل ٹرسٹ، سی بی ایل اور یو ایس اپریل کی جانب سے ان اداروں کے سربراہان اور سینئر افسران نے ایم او یوز پر سائن کئے۔ ایم او یوز کے تحت پنجاب پولیس اور تمام ادارے مل کر مشکلات کی شکار خواتین کو مدد، تعاون اور راہنمائی فراہم کریں گے۔ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ گھریلوخواتین، ورکنگ لیڈیز اور طالبات سمیت معاشرے کی تمام خواتین کی مشکلات کا ازالہ او ر انہیں مختلف سماجی مسائل اور صنفی جرائم سے ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا پنجاب پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے لہذا صنفی جرائم کی شکار خواتین کی مدد و تحفظ کیلئے صوبے کے تمام اضلاع میں ”تحفظ سنٹرز“ کو فعال کرتے ہوئے خصوصی ہدایات جاری کی گئیں ہیں جو نہ صرف جرائم و مشکلات کی شکار خواتین کو فوری قانونی مدد اور انصاف مہیا کریں گے بلکہ سماجی تحفظ، قانونی معاونت اور باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے متعلقہ سرکاری و نجی اداروں تک ان کی رسائی کو آسان بنائیں گے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ خواتین کی مشکلات کے ازالے کیلئے انکے حقوق کیلئے سرگرم اداروں کا باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ پولیس ٹیمیں خواتین کو قانونی مددو تحفظ فراہم کریں گی جبکہ سماجی تحفظ میں دیگر ادارے اپنا کردار ادا کریں گے۔
اخوت فاؤنڈیشن کی جانب سے ڈاکٹر کامران شمس نے پنجاب پولیس کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہاکہ صنفی جرائم کی شکار خواتین کو اُخوت اپنے پلیٹ فارم سے تعلیم، صحت، مائیکرفنانس سمیت دیگر شعبوں میں تعاون فراہم کرے گا جبکہ جن خواتین کو ذہنی یا نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے انکی مدد و علاج کیلئے ترجیحی اقدامات کئے جائیں گے۔ ڈی جی ویمن پروٹیکشن اتھارٹی، ارشاد وحید نے کہاکہ پنجاب پولیس کے تحفظ سنٹرز تشدد اور مختلف مسائل و جرائم کی شکار ہزاروں خواتین کا سہارا ثابت ہونگے اور وہ ویمن پروٹیکشن اتھارٹی اس حوالے سے مشترکہ اقدامات یقینی بنائے گی۔ دستک چیریٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے صبا شیخ نے کہاکہ گھریلو تشدد یا جبری شادی کے مسئلے سے دوچار خواتین کو دستک فاؤنڈیشن قانونی مدد، رہائش اورراہنمائی فراہم کرے گی،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے عرفان گوندل نے کہاکہ خواتین کی سماجی مدد اور تحفظ کیلئے پنجاب پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین حکومتی سطح پر ہونے والے ان اقدامات سے مستفید ہوسکیں۔ یو ایس ایپرل کی جانب سے مصطفی احمد اور سی بی ایل گروپ کی جانب سے یوسف احمد نے کہاکہ خواتین کو باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے صنعتی شعبے میں ملازمتوں کے زیادہ مواقع دئیے جائیں گے۔تقریب میں ایس ایس پی ندا عمر چھٹہ نے خواتین کو درپیش مسائل اور صوبے میں صنفی جرائم کی صورتحال بارے پریزنٹیشن دی۔ تقریب میں میموریل ٹرسٹ کی جانب سے چئیر پرسن لیلٰی نصرت، ویمن کرائسس سنٹر سے رابعہ عثمان،سی بی ایل گروپ سے احسن شریف اسد نے نمائندگی کرتے ہوئے مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق رائے کیا۔
(ہینڈ آؤٹ نمبر 128)
نایاب حیدر
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
***************************


Press Release Date:
Friday, March 31, 2023