لاہور(نمائندہ خصوصی) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ قتل، ڈکیتی، زیادتی اور اغواءبرائے تاوان کے مقدمات کی تفتیش کو روایتی مہارت کےساتھ ساتھ جدید فارنزک سائنس کے موثر استعمال سے جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور عادی و پیشہ ور مجرمان کو عدالتوں سے قرار واقعی سزائیں دلوانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔آئی جی پنجاب کے احکامات پر انویسٹی گیشن ونگ پنجاب کی مانیٹرنگ ٹیموں نے 40سنگین جرائم کے کیسز کی تفتیش مکمل کراتے ہوئے چالان عدالتوں میں جمع کرادئیے ہیں۔ ان مقدمات میں ڈکیتی قتل، اغواءبرائے تاوان، گینگ ریپ، بچوں اور خواتین سے زیادتی، اندھے قتل سمیت دیگر سنگین مقدمات شامل ہیں۔ پنجاب پولیس نے گھریلو تشدد، استحصال، زیادتی سمیت دیگر صنفی جرائم کی شکار خواتین کی مدد و تحفظ کیلئے 6 سرکاری و نجی اداروں کےساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یوز) دستخط کئے ہیں۔ پنجاب پولیس کی جانب سے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور جبکہ ویمن پروٹیکشن اتھارٹی، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، سماجی تنظیم اخوت، دستک چیریٹیبل ٹرسٹ، بالی میموریل ٹرسٹ، سی بی ایل اور یو ایس اپریل کی جانب سے ان اداروں کے سربراہان اور سینئر افسران نے ایم او یوز پر سائن کئے۔ ایم او یوز کے تحت پنجاب پولیس اور تمام ادارے مل کر مشکلات کی شکار خواتین کو مدد، تعاون اور راہنمائی فراہم کریں گے۔ ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ گھریلوخواتین، ورکنگ لیڈیز اور طالبات سمیت معاشرے کی تمام خواتین کی مشکلات کا ازالہ او ر انہیں مختلف سماجی مسائل اور صنفی جرائم سے ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا پنجاب پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے لہذا صنفی جرائم کی شکار خواتین کی مدد و تحفظ کیلئے صوبے کے تمام اضلاع میں ”تحفظ سنٹرز“ کو فعال کرتے ہوئے خصوصی ہدایات جاری کی گئیں ہیں جو نہ صرف جرائم و مشکلات کی شکار خواتین کو فوری قانونی مدد اور انصاف مہیا کریں گے بلکہ سماجی تحفظ، قانونی معاونت اور باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے متعلقہ سرکاری و نجی اداروں تک ان کی رسائی کو آسان بنائیں گے۔
(روز نامہ نوائے وقت)
***************
