آئی جی پنجاب کے احکامات پر سنگین مقدمات کی تفتیش کوجلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پولیس ٹیمیں شب و روز مصروف عمل
انویسٹی گیشن ونگ پنجاب کی مانیٹرنگ ٹیموں نے 43سنگین جرائم کے کیسز کی تفتیش مکمل کرا دی، چالان عدالتوں میں جمع۔
پولیس ٹیموں نے ان مقدمات میں 85خطرناک مجرمان کو گرفتارکیا جبکہ 25کو عدالتوں سے اشتہاری ڈیکلئیر کروایا گیا۔
سنگین جرائم میں مطلوب بیرون ملک فرار اشتہاریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری
پنجاب پولیس 24 جنوری سے لے کر اب تک بیرون ملک مفرور 15 خطرناک اشتہاریوں کو گرفتار کرکے پاکستان لاچکی ہے۔
سی آئی اے کی ٹیم سنگین وارداتوں میں مطلوب خطرناک اشتہاری نصراللہ کو جنوبی افریقہ سے لے کر وطن پہنچ گئی۔
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہاہے کہ سماج دشمن عناصر اورملزمان کو عدالتوں سے قرار واقعی سزائیں دلواناہی جرائم کنٹرول کا اصل فارمولا ہے لہذا صوبے کے تمام اضلاع میں انویسٹی گیشن افسران بھرپور محنت، جدید سائنسی طریقہ تفتیش اور اپنی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عادی و پیشہ ورمجرمان بالخصوس سنگین جرائم میں مطلوب مجرمان کو جلد از جلد پابند سلاسل کروائیں جبکہ اندرون و بیرون ملک اشتہاریوں کی گرفتاریوں پر بھی فوکس رکھا جائے۔ آئی جی پنجاب کے احکامات پرمقدمات کے بر وقت اندراج کے ساتھ ساتھ جدید سائنٹیفک طریقہ تفتیش سے سنگین مقدمات کی تفتیش کوجلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پولیس ٹیمیں صوبہ بھر میں شب و روز مصروف عمل ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن سلطان چوہدری کی زیر نگرانی انویسٹی گیشن ونگ پنجاب کی مانیٹرنگ ٹیموں نے 43سنگین ترین جرائم کے کیسز کی تفتیش مکمل کرا تے ہوئے چالان عدالتوں میں جمع کروادئیے ہیں۔ ان 43مقدمات میں ڈکیتی قتل، اغواء برائے تاوان، گینگ ریپ، بچوں اور خواتین سے زیادتی، اندھے قتل سمیت دیگر سنگین مقدمات شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں ڈکیتی راہزنی کے 7، گینگ ریپ اور بچوں و خواتین سے زیادتی کے 17، بچوں کے اغوا کے 2،ڈبل و ٹرپل مرڈر کے4، اغواء برائے تاوان کے2اوراندھے قتل کے6،دوران ڈکیتی قتل کے 2،دوران ڈکیتی ریپ کے 2اور تیزاب گردی کے 1کیس کا چالان عدالتوں میں جمع کروائے گئے۔ پولیس ٹیموں نے ان مقدمات میں 85خطرناک مجرمان کو گرفتارکیا جبکہ 25کو عدالتوں سے اشتہاری ڈیکلئیر کروایا گیا جبکہ ملزمان کے قبضے سے تقریباََ تین کروڑ روپے مالیت کے طلائی زیورات و نقدی سمیت دیگر مال مسروقہ برآمد کیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے مؤثر فالو اپ سے سنگین مقدمات کی تفتیش مکمل اور چالان جمع کروانے پر مانیٹرنگ ٹیموں کو شاباش دیتے ہوئے کہاکہ تفتیشی افسران پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ سے قریبی رابطہ رکھتے ہوئے ٹرائل کو جلد از جلد مکمل کروائیں۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن سنگین ترین مقدمات کی تفتیش کی مانیٹرنگ کو انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز میں یقینی بنائیں۔
مزید برآں آئی جی پنجاب کی ہدایت پر سنگین جرائم میں مطلوب بیرون ملک فرار اشتہاریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور پنجاب پولیس 24 جنوری سے لے کر اب تک بیرون ملک مفرور 15 خطرناک اشتہاریوں کو گرفتار کرکے پاکستان لاچکی ہے۔ سی آئی اے گوجرانوالہ کی ٹیم سنگین وارداتوں میں مطلوب خطرناک اشتہاری نصراللہ کو جنوبی افریقہ سے لے کر وطن پہنچ گئی ہے۔ مذکورہ ملزم قتل،اقدام قتل، بھتہ خوری،اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت چار مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔ تفصیلات کے مطابق بیرون ملک سے گرفتار ہونے والے دیگر اشتہاریوں میں علی یٰسین، محمد یونس، شمس شہزاد، ظہیر احمد، محمد جنید، عمر شہزاد، جاوید اقبال،محمد خلیل خان، علی حسنین، اویس خورشید، غیور عباس، صہیب غنی، شاہد محمود اور شہباز شامل ہیں،یہ ملزمان دہشت گردی، قتل، بھتہ مانگنے، اقدام قتل، ڈکیتی، اغواء برائے تاوان سمیت سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے جنہیں خلیجی ممالک، یورپ، جنوبی افریقہ، برطانیہ، ڈنمارک اور امریکہ سے گرفتارکرکے پاکستان لایا گیا ہے۔ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ رواں برس پنجاب پولیس نے بیرون ملک فراراشتہاریوں کے ریڈ وارنٹس کیلئے 88 کیسز انٹرپول کوبھجوائے ہیں اور انٹرپول اب تک 37 کیسز میں بیرون ملک فرار خطرناک اشتہاریوں کے ریڈ وارنٹ جاری کرچکا ہے۔آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ سپروائزری افسران ذاتی نگرانی میں ایف آئی اے اور انٹرپول کے تعاون سے خطرناک اشتہاری ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کیلئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں اور عوام کی جان و مال کے دشمن ان اشتہاریوں کو قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیں۔
