دوران حراست تشدد یا ہلاکت کسی صورت قابل قبول نہیں:آئی جی

Feb 27, 2023

لاہور(نامہ نگار)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ڈکیتی، راہزنی، اغواء  برائے تاوان اور قتل سمیت دیگر سنگین جرائم کی روک تھام کیلئے انسدادی کاروائیوں میں تیزی لائی جائے اور عادی و پیشہ ور مجرمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیں۔ سنگین جرائم میں ملوث منظم گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز خود نگرانی کریں اور ٹارگٹڈ آپریشنز کے ذریعے خطرناک گروہوں کا صفایا کیا جائے۔ صوبہ بھر سے منشیات بالخصوص آئس اور شیشہ سمیت دیگر ماڈرن و خطرناک ڈرگز کے خاتمے کیلئے کاروائیوں میں تیزی لائی جائے اور تعلیمی اداروں اور ہاسٹلز کے گردونواح مکروہ دھندے میں ملوث سماج دشمن ملزمان کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے انہیں پابند سلاسل کرکے قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیں۔ یہ ہدایات انہوں نے سنٹرل پولیس آفس میں منعقدہ ویڈیو لنک کانفرنس کی صدارت کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔ آئی جی پنجاب نے مختلف ریجنز میں جرائم کی صورتحال اور پولیس ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ زیادتی کے مقدمات کی تفتیش میں فرانزک سائنس اور جدید طریقہ تفتیش پر فوکس کیا جائے۔ صوبہ بھر میں دھاتی ڈور اور پتنگوں کی تیاری، خریدو فروخت اور استعمال کے خلاف کاروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔ دوران حراست تشدد یا ہلاکت کسی صورت قابل قبول نہیں، ایسے واقعات کے ذمہ داران کے خلاف محکمانہ و قانونی کاروائی میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔ دوران تفتیش جدید مہارتوں اور فارنزک سائنس سے بھرپور استفادہ کو تقویت دی جائے۔ شہریوں کی املاک پر قبضے کرنے والے مافیاز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق کاروائیوں میں تیزی لائی جائے۔  دہشت گردی خطرات کے پیش نظر اقلیتی عبادت گاہوں، حساس دفاتر و مقامات کے سکیورٹی انتظامات کو بہتر سے بہتر بنایا جائے جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے سلسلے میں وضع کردہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ پی ایس ایل سکیورٹی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی بالخصوص چینی شہریوں، ماہرین اور سرمایہ کاروں کے دفاتر و رہائش گاہوں اور ذاتی سکیورٹی کا بطور خاص خیال رکھا جائے۔

(روز نامہ نوائے وقت)

*************