آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کمپلینٹ سیل 1787 میں شہریوں کی فون کالز سنیں
ناقص تفتیش، ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر قصور، فیصل آباد، ساہیوال اور بہاولپور کے 4 ایس ایچ اوزمعطل، ڈی ایس پیز کو شوکازنوٹس
آر پی او ساہیوال کو ڈکیتی و قتل کی واردات کی تفتیش اپنی نگرانی میں کرنے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم
شہریوں کی شکایات کے حل میں تاخیر کے مرتکب افسران و اہلکاروں کا محکمانہ احتساب ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ آئی جی پنجاب
شہریوں کی سہولت اولین ترجیح، 1787شکایت سنٹر میں روزانہ شہریوں کی فون کالز سنوں گا۔ آئی جی پنجاب
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے آئی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 میں شہریوں کی شکایات پر مبنی فون کالز خود سنیں اور ان کے ازالے کے لیے موقع پر متعلقہ آر پی اوز کو احکامات جاری کیے۔ آئی جی پنجاب نے قصور کے شہری نعیم کی موٹرسائیکل چوری کی درخواست میں اندارج مقدمہ کی تاخیر پر ایس ایچ او کھڈیاں کو معطل اور ڈی ایس پی کو شوکاز نوٹس دیتے ہوئے آر پی او شیخوپورہ سے کہا کہ شہری کی موٹرسائیکل برآمدگی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔ ڈاکٹر عثمان انور نے مقدمہ قتل کی ناقص تفتیش پر ایس ایچ او ملت ٹاون فیصل آباد کو معطل جبکہ ڈی ایس پی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے آر پی او فیصل آباد کو ہدایت کی کہ مقدمہ کی تفتیش اپنی نگرانی میں کروائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوائیں۔ انہوں نے تھانہ یوسف والا میں ڈکیتی کے مقدمہ کی ناقص تفتیش اور مدعی مقدمہ سے ناروا سلوک اختیار کرنے پر ایس ایچ او یوسف والا کومعطل اور ڈی ایس پی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے آر پی او ساہیوال کو اس مقدمہ کی تفتیش کے ساتھ ساتھ تھانہ حجرہ شاہ مقیم ڈکیتی قتل کے مقدمہ کی تفتیش بھی اپنی نگرانی میں کرانے اور پولیس کی غفلت اور مدعی مقدمہ سے تعاون نہ کرنے پر انکوائری کے بعد ذمہ داروں کو سزا دے کر ایک ہفتے میں رپورٹ بھجوانے کا حکم دیا۔ آئی جی پنجاب نے تھانہ صدر حاصل پورکے سکول کے ہیڈ ماسٹر طارق کی سولر پینل کی چوری کی درخواست پر مقدمہ کے اندراج میں تاخیر پر ایس ایچ او صدر حاصل پور کو معطل اور ڈی ایس پی کو شوکاز نوٹس دیتے ہوئے آر پی او بہاولپور کو کہا کہ ڈکیتی، چوری اور رابری کی اگر کوئی زیر التوا درخواستیں ہیں تو ان پر فوری فوری مقدمات درج کرواتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کی رپورٹ جلد آئی جی آفس بھجوا ئی جائے۔
اس موقع پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں شہریوں کو پولیس سروسز کی فوری فراہمی اورپولیس سسٹم کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سنگین اور اہم شکایات کے ازالے کے لیے 1787سنٹر میں شہریوں کی کالز روزانہ خود سنوں گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ذہن نشین کر لی جائے کہ شہریوں کے مسائل سو فیصد میرٹ پر حل کیے جائیں گے اور اختیارات سے تجاوز،فرائض میں غفلت اور شہریوں کے مسائل کے حل میں دلچسپی نہ لینے والے افسران و اہلکارنہ صرف خود کو محکمانہ کاروائی کے لیے تیار رکھیں بلکہ ایسے افسران و اہلکار فیلڈ پوسٹنگ پر رہنے کا قطعی حق نہیں رکھتے۔ ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ 1787 کمپلینٹ سنٹر کا بنیادی مقصد ہی شہریوں کو فوری ریلیف دینا ہے لہذا جو افسر یا اہلکار 1787سے بھجوائی گئی شکایات پر ایکشن میں تاخیر کا مظاہرہ کرے گا وہ خود کو سخت محکمانہ احتساب کے لیے تیار رکھے۔ آئی جی پنجاب نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ موثر سپرویژن سے 1787کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی شکایات پر فوری ایکشن اور ازالے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1787 پر موصول ہونے والی تمام شکایات کا اس وقت تک فالو اپ جاری رہے جب تک شکایت کنندہ مطمئن نہ ہو جائے۔یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں 1787کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کا دورہ کرتے ہوئے افسران وسٹاف سے گفتگو کرتے ہوئے جاری کیں۔
آئی جی پنجاب نے آئی جی پی شکایت سیل 1787 کے افسران و عملہ کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے آپ پر بہت بھاری ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھا کر آپ دنیا و آخرت دونوں سنوار سکتے ہیں لہذا شہریوں کو فوری ریلیف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔اس موقع پرڈی آئی جی آئی اے بی، محمد امین بخاری، اے آئی جی انسپکشن، شعیب خرم جانباز اور اے آئی جی کمپلینٹس، شاکر احمد شاہد سمیت دیگر افسران موجود تھے۔
(ہینڈ آؤٹ نمبر 40)
نایاب حیدر
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
***************************


Press Release Date:
Tuesday, January 31, 2023