صوبے میں سنگین جرائم کے مقدمات کی تفتیش اور فالو اپ کیلئے آرگنائزڈ کرائم کا علیحدہ شعبہ بنانے کا فیصلہ۔
آئی جی پنجاب کی ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن آفس میں ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم کی تعیناتی بارے حکومت کو سمری بھجوانے کی ہدایت
آر پی اوز، ڈی پی اوز اضلاع میں سنگین نوعیت کے مقدمات کی تفتیش آرگنائزڈ کرائم انچارج کے سپرد کریں۔ عامر ذوالفقار خان
صوبہ بھر میں جرائم کی روک تھام اور مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے ہارڈ کور پولیسنگ کی جائے۔ آئی جی پنجاب
جن اضلاع میں ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم کی سیٹیں خالی ہیں وہاں ڈی پی اوز، آرپی اوز کی مشاورت سے قابل اور محنتی انسپکٹرز کی تعیناتی کریں۔
آئی جی پنجاب عامر ذوالفقار خان کی زیر صدارت انویسٹی گیشن برانچ کے پیشہ ورانہ امور بارے سنٹرل پولیس آفس میں اجلاس
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عامر ذوالفقار خان نے کہا ہے کہ صوبے میں سنگین جرائم کے مقدمات کی تفتیش اور فالو اپ کو مزید بہتر بنانے کیلئے آرگنائزڈ کرائمز کا شعبہ الگ کیا جائے اورایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن آفس میں ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم کی تعیناتی بارے حکومت کو سمری جلد بھجوائی جائے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم نہ صرف موثرفالو اپ سے جرائم کا ڈیٹا اکٹھا کریں بلکہ تمام اضلاع میں سنگین جرائم کے مقدمات پر ہونے والی تفتیش کی پیش رفت بارے ہفتہ وا ر پراگریس رپورٹ بھی دیں گے۔عامر ذوالفقار خان نے کہا کہ آر گنائزڈ کرائم کا شعبہ صوبہ بھر میں درج مقدمات کے کلوز فالو اپ کو یقینی بناتے ہوئے مؤثر تفتیش سے خطرناک مجرمان کی گرفتاری، چالان کی بروقت تکمیل اورقرار واقعی سزا دلوانے پر بطور خاص فوکس کرے گا تاکہ عادی و پیشہ ور مجرمان کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جاسکے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم انویسٹی گیشن کے ریجنل مانیٹرنگ یونٹس کے ساتھ کلوز کوارڈی نیشن رکھیں گے اور اندراجِ مقدمہ کے ساتھ ہی تفتیش کے تمام مراحل کی نگرانی کرتے ہوئے موثر فالو اپ سے کیس کو جلداز جلد منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ آر گنائزڈ کرائم کا شعبہ الگ کرنے کا بنیادی مقصدموثر فالو اپ سے انویسٹی گیشن کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانا ہے اور اس سلسلے میں مزید وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ہر ممکن اقدامات جار ی رہیں گے۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ ابتدائی طور پر اے آئی جی مانیٹرنگ قتل، ڈکیتی، رابری اور ریپ سمیت آرگنائزڈ کرائم کے مقدمات کی پندرہ روزہ مانیٹرنگ رپورٹ دیں۔ عامر ذوالفقار خان نے ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں جرائم کی روک تھام اور مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے ہارڈ کور مزاج پولیسنگ کی جائے، ڈکیتی، قتل، رابری اور ریپ کے مقدمات میں ملوث عادی مجرمان کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید موثر بناتے ہوئے انہیں قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ صوبہ بھر میں ڈکیتی، چوری، راہزنی کے مقدمات میں سزا اور بری ہونے کی شرح کا تمام ڈیٹا اکٹھا کیا جائے اور ان مقدمات میں ضمانت ہونے کے وقت کی اوسطا شرح کیا ہے اس بارے پنجاب کے تمام اضلاع سے آئندہ 10روز میں رپورٹ تیار کرکے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ جن اضلاع میں ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم کی سیٹیں خالی ہیں وہاں ڈسٹرکٹ پولیس افسران اپنے آر پی اوز کی مشاورت سے قابل اورمحنتی انسپکٹرز کی تعیناتی کریں۔ یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں انویسٹی گیشن برانچ کے پیشہ ورانہ امور بارے منعقدہ اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران جاری کیں۔
آئی جی پنجاب نے افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں عدالتی مفروروان کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کیا جائے اور عدالتی مفروران کے ضمانتیوں کو تھانوں میں بلا کر اس سے یہ یقین دہانی لیں کہ وہ ان مفروروں کی عدالتوں میں حاضری کو یقینی بنائیں۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ ہر ضلع میں ڈکیتی، قتل، رابری اور ریپ کے ایسے مقدمات جن کی تفتیش تھانے کے لیول پر نہ کی جاسکتی ہو، ان کے تفتیش آرگنائزڈ کرائم کے انچارج کے سپرد کی جائے اور تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنانے کیلئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ پر بطور خاص توجہ دی جائے۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن، صوبے کے مختلف آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کرکے اظہار خیال کیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیزاسٹیبلشمنٹ،لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ،فنانس اینڈ ویلفیئر، سپیشل برانچ،آر پی او شیخوپورہ،فیصل آباد، ڈی آئی جی آئی ٹی، ہیڈ کوارٹرزسمیت دیگر افسران موجود تھے جبکہ آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔
(ہینڈ آؤٹ 23 )
نایاب حیدر
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
**************************

