لاہور(کر ائم رپو رٹرسے)پنجاب پولیس نے 20جوان گذشتہ سال اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہو گئے ،اس حوالے سے انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب عامر ذوالفقار خان نے کہا کہ پنجاب پولیس معاشرے میں امن و امان برقرا رکھنے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے مقدس فریضے کیلئے شب و روز مصروف عمل ہے اور اسی سلسلے میں پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران سالِ گذشتہ میں پولیس فورس کے 20جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل پولیس آفس میں 2022کے شہدائے پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کیا۔ لاہور پولیس نے صوبہ بھر میں سب سے زیادہ 5شہادتیں پیش کیں۔ لاہور پولیس کے شہداء میں ایک اے ایس آئی، تین کانسٹیبلز اور ایک ٹریفک اسسٹنٹ شامل ہیں۔ شیخوپورہ اور ننکانہ پولیس کے دو دو اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔بھکر میں ایک انسپکٹر، نارووال اور پاکپتن میں ایک ایک سب انسپکٹر جبکہ چنیوٹ میں اے ایس آئی رینک کے آفیسر شہید ہوئے۔ منڈی بہائوالدین، فیصل آباد، سیالکوٹ، جہلم، رحیم یار خان، خانیوال اور اوکاڑہ میں بھی فی کس ایک پولیس اہلکار نے جام شہادت نوش کیا۔ واضح رہے کہ اب تک پنجاب پولیس کے مجموعی طور پر 1590 افسران و اہلکار دوران ڈیوٹی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔ دو ہزار بائیس کے شہداء میں سے 9 شہداء کی فیملیز کیلئے 137.50 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ باقی شہداء کے ویلفیئر کیسز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ دوران ڈیوٹی مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے 10 غازیوں کو 43 لاکھ روپے کی رقم ادا کر دی گئی ہے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب عامر ذوالفقار خان نے پولیس شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرض کی راہ میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے پولیس کے بہادر جوان ہمارے قومی ہیروز ہیں جن کے اہل خانہ کی بہترین ویلفیئر کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات جاری رہیں گے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ پنجاب پولیس کے بہادر سپوتوں نے ہمیشہ فرض کو اپنی زندگیوں پر فوقیت دی اور اپنے لہو سے قوم کے محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی ہے۔ عامر ذوالفقار خان نے کہاکہ تمام تر شہادتوں کے باوجود پنجاب پولیس کا مورال بلند ہے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے پولیس فورس مستقبل میں بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ آئی جی پنجاب نے صوبے کے تمام سپروائزری افسران کو ہدایت کی کہ شہداء کی فیملیز کی ویلفیئر کیلئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور انہیں خوشی و غمی کے کسی موقع پر اکیلا نہ چھوڑا جائے۔
(روز نامہ جنگ)
***********