تفصیلات کے مطابق انچارج چوکی فرید کوٹ پاکپتن سب انسپکٹر محمدسرور اکرم گذشتہ رات اپنی ٹیم کے ہمراہ شہریوں کو لوٹنے والے ڈاکوؤں کا تعاقب کر رہے تھے اور ڈاکوؤں سے کراس فائرنگ کے نتیجے میں جام شہادت نوش کیا۔فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو ہلاک اور دو پولیس اہلکاربھی زخمی ہوئے۔ آئی جی پنجاب نے ڈی پی او پاکپتن کو اپنی نگرانی میں واقعہ کی انکوائری کا حکم دیا۔ انہوں نے کہاکہ شہید سب انسپکٹر محمد سرور اکرم کی فیملی کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے اورانکی ہر ممکن سہولت اور آسانی فراہم کی جائے۔ سب انسپکٹر محمد سرور اکرم شہید کی لازوال قربانی سے پاکپتن پولیس کے شہداء کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔سب انسپکٹر محمد سرور اکرم نے بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سے2011 میں گریجویشن کی اور 2015 میں بطور سب انسپکٹر پنجاب پولیس کا حصہ بنے اور محمد سرور اکرم کچھ ہی عرصہ میں بطور فرض شناس آفیسر اپنی پہچان بنائی۔ انہوں نے گذشتہ برس تھانہ ڈل وریام پاکپتن میں بطور ایس ایچ او بھی فرائض ادا کئے جبکہ ان دنوں چوکی فرید کوٹ تھانہ صدر پاکپتن کے انچارج کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے تھے۔محمد سرور اکرم شہید کے والد پاکستان آرمی سے بطور نائیک ریٹائرڈ ہوئے، کچھ عرصہ قبل ان کا انتقال ہوا تھا۔محمد سرور اکرم شہید گذشتہ رات اپنی ٹیم کے ہمراہ واردات کے بعد فرار ہونے والے ڈاکوؤں کا تعاقب کر رہے تھے۔ڈاکوؤں سے کراس فائرنگ کے نتیجے میں محمد سرور اکرم شہید نے جام شہادت نوش کیا۔ محمد سرور اکرم نے سوگوران میں بوڑھی والدہ، بیوہ اور ایک 2 سالہ بیٹا اذان چھوڑا ہے۔ محمد اکرم شہید کی نماز جنازہ آج دوپہر ڈی پی او آفس پاکپتن میں ادا کی گئی جس میں آر پی او ساہیوال اور ڈی پی او پاکپتن سمیت ضلعی پولیس کے دیگر افسران شرکت کی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد محمد سرور اکرم شہید کی تدفین آبائی علاقے قبولہ شریف عارفوالہ میں پورے اعزاز کے ساتھ کی گئی
(ہینڈ آؤٹ 484 )
اُسامہ محمود
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
**************************


