تھانہ سندر کے علاقے میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے تاوان کے لیے اغواء ہونیوالا5سالہ بچے کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا، 2اغوا کار گرفتار۔
عریض کی سوتیلی نانی نے آشنا کے ساتھ منصوبہ بندی سے چند روز قبل بچے کو10کروڑ روپے تاوان کے لیے اغواء کروایا تھا۔ کامران عادل
*ملزمان دوبئی کے نمبرز سے کانفرنس کال کے ذریعے مدعی سے رابطہ کرتے تھے۔باقی ملزمان جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزادلوائی جائے گی -ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور
آئی جی پنجاب بچے کی بازیابی سے متعلق روز اپڈیٹ لیتے رہے، انویسٹی گیشن ٹیم نے بہترین کام کیا۔
بچے کے والد نے سی سی پی او لاہور اور انکی ٹیم کا شکریہ ادا کیا، بچے کو 18 روز بعد ملنے پر باپ آبدیدہ، جذباتی مناظر۔
لاہورسی آئی اے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تھانہ سندر کے علاقے میں واقعہ ایک نجی سوسائٹی سے تاوان کے لیے اغواء ہونیوالے5سالہ بچے کو بحفاظت بازیاب کروا کر 2ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان سے2جدید رائفلیں بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل نے آج اپنے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور، ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار، ایس صدر آپریشن حسن جاوید بھٹی اور سی آئی کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ تھانہ سندر کے علاقے سے تاوان کے لیے اغواء ہونیوالے5سالہ بچے عریض کوبحفاظت بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان سجاد اور اکرم کو سرائے عالمگیر سے گرفتار کیا گیا ملزمان سے 2جدید رائفلیں (کلاشنکوف، 1000گولیاں)بھی برآمدکی گئیں۔فرار ملزمان مہوش، شہباز اور اویس کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمز ریڈز کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان نے 13مئی کی شام بچے کو تھانہ سندرکی نجی سوسائٹی کے پارک سے10کروڑ روپے تاوان کے لیے اغواء کیا۔ جس کا مقدمہ939/22مورخہ13مئی کو تھانہ سندر میں اس کے والد احمد یار کی مدعیت میں درج ہوا۔بچے عریض کی سوتیلی نانی مہوش نے آشنا شہباز کے ساتھ مل کر بچے کے اغواء کی واردات کا منصوبہ بنایا۔مہوش اور شہباز کے منصوبے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سجاد، اکرم اور اویس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ڈی آئی جی کامران عادل نے بتایا کہ ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے دوبئی کے نمبرز سے کانفرنس کال کے ذریعے مدعی سے رابطہ کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جلد باقی ملزمان کو بھی گرفتار کر کے پراسیکوشن کی مدد سے قرار واقعی سزاد دلوائی جائے گی۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل نے بتایا کہ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان اس کیس کے بارے روزانہ اپڈیٹ لیتے رہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بچے کے والد نے وزیر اعلی پنجاب، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور اور انکی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ بچے کے والد کے بیٹے سے ملنے کے جذبات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
(ہینڈ آؤٹ 274 )
اُسامہ محمود
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
***************************

