مظفر گڑھ میں خاتون اور اسکے بیٹے پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ
پولیس نے واقعہ کا مقدمہ فوری درج کرکے ایف آئی آر میں نامزد تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، تینوں ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔
خاتون کی وفات کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کر لی گئیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیجز اور مقتولہ کے موبائل فونز ریکارڈ سمیت ہر پہلو سے تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
پولیس خاتون کے لواحقین سے مسلسل رابطے میں ہے۔خاتون کے والدین نے پولیس کی تفتیش پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان پولیس
مظفرگڑھ تحصیل کوٹ ادو کے علاقے پرہاڑ شرقی میں گھر کے صحن میں سوئی ہوئی خاتون نسرین بی بی اور اسکے 12 سالہ بیٹے جہانزیب پر 8 مئی کی رات تیزاب سے بھرا کین انڈیل دیا گیا تھا،،واقعے میں خاتون کے جسم کا 80 فیصد حصہ جھلس گیا تھا،،نسرین بی بی 18 روز تک نشتر ہسپتال ملتان میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گئی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ کیپٹن ریٹائرڈ طارق ولایت کی ہدایت پر تیزاب پھینکنے کے جرم میں 3 افراد سکندر حیات،اسد حیات اور محمد آصف کیخلاف دہشتگردی ودیگر دفعات کے تحت تھانہ کوٹ ادو میں مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا، تینوں ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں موجود ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور مقتولہ کے موبائل فونز تجزئیے کے لیے فرانزک لیب لاہور بھجوادئیے گئے ہیں جبکہ ملزمان کی نشاندہی کے لیے علاقے کی جیوفینیسنگ بھی کرالی گئی ہے، خاتون کے مرنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کرلی گئی ہیں جبکہ مقتولہ کے 12 سالہ بیٹے جہانزیب کی حالت بہتر ہے جسے ہسپتال سے جلد ڈسچارج کردیا جائیگا. ایس پی انویسٹی گیشن مظفرگڑھ ضیاء اللہ کیس کی تفتیش سپروائز کر رہے ہیں۔اور کیس کی ہر زاویہ سے تفتیش کی جا رہی ہے۔پولیس خاتون کے لواحقین سے مسلسل رابطے میں ہے۔خاتون کے والدین نے پولیس کی تفتیش پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
(ہینڈ آؤٹ 269 )
اُسامہ محمود
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
***************************
