نشی نے والدہ ،والد ، بہن، بھانجا، سسر،خالہ ،ساس کو قتل کردیا

Apr 16, 2022

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان نے لاہو رکے علاقے گرین ٹاؤن میں چھ افراد کے قتل کی لرزہ خیز واردات کا نوٹس لیتے ہوئے قائم مقام سی سی پی او لاہور سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ آئی جی پنجاب نے لاہور پولیس کے افسران کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ ملزم کو جلد گرفتار کرکے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور لواحقین کو انصاف کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں گرین ٹاؤن کے علاقے پی سی ایس آئی آرکالج روڈ امیر چوک اور شیراز ٹاؤن محلہ جوئیاں والا میں آج (جمعہ) صبح اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں چھ افراد کے قتل کی لرزہ خیز واردات کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تاہم لاہور پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے اندوہناک قتل کے ملزم عابد کو گرفتار کرکے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور گاڑی بھی برآمد کر لی۔ایس ایس پی انوسٹی گیشن عمران کشور،ایس ایس پی آپریشنز مستنصر فیروز،ایس پی صدر آپریشنز و انویسٹی گیشن سمیت سینئر پولیس افسران،فرانزک ٹیمیں اور پولیس کی بھاری نفری اطلاع ملتے ہی جائے واردات پر پہنچیں اور شواہد اکٹھے کئے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق آئس نشے کے عادی ملزم عابد نے کسی وجہ سے طیش میں آکر خودکار اسلحہ سے اپنے گھر اور سسرال والوں پر فائرنگ کی۔ملزم نے پی سی ایس آئی آر میں فائرنگ کرکے اپنے گھر کے چار افراد کو قتل جبکہ شیراز ٹاؤن محلہ جوئیاں والا سسرال میں بھی دو افراد کو ہلاک جبکہ ایک کو زخمی کر دیا تھا۔مجموعی طور پر سات افراد ملزم کی فائرنگ کا نشانہ بنے جن میں سے چھ افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ملزم عابد فائرنگ کے بعد اپنی گاڑی میں فرار ہو گیا تھا تاہم ڈولفن ٹیم 350 نے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 کی کال موصول ہونے پر ملزم کے فرار ہونے کی کوشش ناکام بنائی تھی۔ڈولفن ٹیم نے ملزم کو کالج روڈ سے گرفتار کیا۔ملزم کی گاڑی سے رائفل برآمد کر لی گئی۔مقتولین میں 60 سالہ غلام حسین،55 سالہ آسیہ،32 سالہ راحیلہ،15 سالہ ہمایوں، سسراسلم اور خالہ ساس شگفتہ شامل ہیں۔فائرنگ کے نتیجے میں ملزم نے اپنی ساس رانی بی بی کو زخمی کیا۔ڈولفن ٹیم نے 15 کی کال پر ریسپانس کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم آئس کا نشہ کرتا ہے۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔ آئی جی پنجا ب راؤ سردار علی خان نے ہدایت کی ہے کہ لاہور پولیس کے سینئرافسران متاثرہ خاندانوں سے قریبی رابطہ رکھیں اور تفتیش کے تمام مراحل کو جلد از جلد مکمل کرتے ہوئے ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔

(روزنامہ جنگ)

*********