پنجاب پولیس میں محکمانہ احتساب کا عمل مزید سخت/تین افسران نوکری سے برطرف
آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر تین ڈی ایس پیز کو نوکری سے برطرف کر دیا۔
ڈی ایس پیز سیف اللہ بھٹی اور احمد سجاد چیمہ آئل کمپنی کی سپلائی لائن سے تیل چوری میں ملوث گینگ کی پشت پناہی کرتے تھے۔
ڈی ایس پی زیارت علی خان نے جعلی دستخط کرکے قتل کے مقدمہ کی تفتیش جعل سازی سے تبدیل کی تھی۔
پنجاب پولیس میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں، کالی بھیڑوں کو نکال باہر کیا جا رہا ہے۔ راؤ سردار علی خان
پولیس اسٹیشن اور دفاتر میں خفیہ سٹینگ آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں،شہری پولیس بارے شکایت کی صورت فوری 1787 پر رابطہ کریں۔آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان
انسپکٹرجنرل پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان نے دوران ڈیوٹی اختیارات سے تجاوز اور کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر تین ڈی ایس پیز کو نوکری سے برخاست کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس میں محکمانہ احتساب کا عمل مزید سخت کردیا گیا ہے اوردوران ڈیوٹی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کالی بھیڑوں کو محکمہ سے نکال باہر کیا جارہاہے۔ آئی جی پنجاب نے ڈی ایس پی سیف اللہ بھٹی اور ڈی ایس پی احمد سجاد چیمہ کو کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر نوکری سے برخاست کر دیا۔ڈی ایس پی سیف اللہ بھٹی اور ڈی ایس پی احمد سجاد چیمہ جھنگ میں آئل کمپنی کی سپلائی لائن سے لاکھوں روپے مالیت کے تیل چوری میں ملوث گینگ کی پشت پناہی کرتے تھے۔گینگ کی گرفتاری پر ملزمان نے دوران تفتیش ان افسران کے شامل ہونے کا انکشاف کیا۔ڈی ایس پی سیف اللہ بھٹی آج کل چینیوٹ جبکہ ڈی ایس پی احمد سجاد چیمہ فیصل آباد میں تعینات تھے۔آئی جی پنجاب نے کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر دونوں افسران کو نوکری سے برخاست کر دیا۔آئی جی پنجاب نے ڈی ایس پی زیارت علی خان کو بھی اختیارات سے تجاوز کرنے پر نوکری سے برخاست کر دیا۔ڈی ایس پی زیارت علی خان نے ننکانہ صاحب میں پوسٹنگ کے دوران چیئرمین ڈسٹرکٹ اسٹینڈنگ بورڈ کے جعلی دستخط کرکے قتل کے مقدمہ کی تفتیش جعل سازی سے تبدیل کی تھی۔زیارت علی آج کل ڈی ایس پی ٹریفک پولیس ہیڈ کوارٹر تعینات ہے۔آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر تین ڈی ایس پیز کو نوکری سے برطرف کر دیا۔
آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے کہاکہ پہلے جزا پھر سزا کی پالیسی کے تحت محکمہ پولیس میں انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کا عمل تیز کردیا گیا ہے جس کا مقصد اختیارات سے تجاوز، کرپشن اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث کالی بھیڑوں کو محکمہ پولیس سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس میں جزاو سزا کا سخت معیار فورس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے نہایت ضروری ہے اورجو بھی افسر یا اہلکاردانستہ پیشہ ورانہ غفلت یا کسی خلاف ضابطہ سرگرمی میں ملوث پایا گیا اسے محکمہ پولیس سے نکال باہر کیا جائے گا۔ راؤ سردار علی خان نے کہاکہ پولیس اسٹیشنز اور دفاتر میں خفیہ سٹینگ آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں،کرپشن کسی صورت برداشت نہیں، ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ شہریوں کو پولیس افسران و اہلکاروں بارے کوئی بھی شکایت ہوں تو 1787 پر رابطہ کریں۔
(ہینڈ آؤٹ 200 )
اُسامہ محمود
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
***************************