میاں چنوں،خانیوال میں پیش آنے والے افسوسناک سانحہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاریاں جاری
پنجاب پولیس نے 6 مزید مرکزی ملزمان کی شناخت کرکے گرفتار کرلیا، کل 21 مرکزی ملزمان گرفتار،102 مشتبہ افراد زیر حراست
نئے گرفتار ملزمان میں سدابہار، مطلوب، رفاقت، عنصر حسین ولد محمد نواز، عنصر حسین ولد صادق اور محمد شفیق شامل ہیں۔
قانون ہاتھ میں لینے والے تمام شرپسند عناصر کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔آئی جی پنجاب
مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں رات بھر چھاپے مارتے رہیں، خفیہ آپریشن بھی جاری۔ ترجمان پنجاب پولیس
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے احکامات اور وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر سانحہ خانیوال میں ملوث تمام ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیموں کے آپریشنز جاری ہیں اور افسوس ناک واقعہ میں ملوث تمام شرپسند عناصر کو گرفتارکرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جارہا ہے۔ راؤ سردار علی خان نے کہاکہ واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور سفاک ملزمان کو قرار واقعی سزادلائی جائے گی۔
ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ میاں چنوں، خانیوال میں پیش آنے والے افسوسناک سانحہ میں پنجاب پولیس کی مزید گرفتاریاں جاری ہیں اورپولیس نے 6 مزید مرکزی ملزمان کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کرلیا ہے جس کے بعد مجموعی طور پر گرفتارمرکزی ملزمان کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ گرفتار نئے ملزمان میں سدابہار، مطلوب، رفاقت، عنصر حسین ولد محمد نواز، عنصر حسین ولد صادق اور محمد شفیق شامل ہیں۔ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کو اشتعال دلاتے، اینٹوں اور ڈنڈوں سے شہری پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے اس لئے انکے خلاف دہشت گردی اور سنگین جرائم کی دفعات کے تحت کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پولیس نے ابھی تک کل 102 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ دستیاب فوٹیجز اور شواہد کی مدد سے مزید ملزمان کی گرفتاری اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ترجمان پنجاب پولیس نے بتایاکہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں رات بھر چھاپے مارتے رہی ہیں جبکہ ساتھ ہی ساتھ مزید ملزمان کی گرفتاری کیلئے خفیہ آپریشن بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ قانون ہاتھ میں لینے والے تمام شرپسند عناصر کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لاکر سخت سزا دلائی جائے گی تاکہ ایسا سانحہ دوبارہ رونما نہ ہوسکے۔
(ہینڈ آؤٹ 96)
اُسامہ محمود
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
***************************