ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں، اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سپروائزری افسران سے بھی جواب طلبی کی جارہی ہے۔ آئی جی پنجاب

ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں، اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سپروائزری افسران سے بھی جواب طلبی کی جارہی ہے۔ آئی جی پنجاب
آئی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 پر موصول شکایات پر بروقت رسپانس نہ دینے والے50 افسران کو جواب طلبی کے وضاحتی لیٹرز جاری۔
مجموعی طور پر صوبہ بھر کے 26 ایس پیز، 3 اے ایس پیز اور 31 ڈی ایس پیز کو وضاحتی لیٹرز جاری۔
ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاریوں میں غفلت دکھانے پر لیٹرز جاری کئے گئے۔  
ماتحت عملہ کی جانب سے ناقص تفتیش، جھوٹی ایف آئی آرز کا اندراج اور مال مقدمہ کی برآمدی میں کوتاہی پر بھی وضاحتی لیٹرز جاری کیے گئے۔
1787 کی گزشتہ سال کی کارکردگی کے جائزہ کے بعد آئی جی پنجاب نے ان افسران کو وضاحتی لیٹرز جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ترجمان پنجاب پولیس

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان نے کہاہے کہ محکمہ پولیس میں محکمانہ احتساب کا عمل مزید سخت اور تیز کردیا گیا ہے اور عوامی شکایات پر بروقت کاروائی نہ کرنے والے 50 افسران کو وضاحتی لیٹرز جاری کئے گئے ہیں جن پر بعد ازانکوائری مزید سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ احتساب کا مقصد شہریوں کی خدمات کی فراہمی کے عمل کو مزید بہتر بنا ناہے کیونکہ جزا و سزا کے نظام کی بدولت افسران و اہلکار پیشہ وارانہ فرائض بہتر انداز سے سر انجام دیں گے۔ راؤ سردار علی خان نے کہا کہ اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سپروائزری افسران سے بھی جواب طلبی کی جارہی ہے اورعوامی مسائل کے حل میں دلچسپی نہ لینے والے افسران و اہلکاروں کو فیلڈ پوسٹنگ سے ہٹا دیا جائے گا۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ پولیس ایک ڈسپلنڈ فورس ہے جس میں جاری کردہ ہدایات اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے آر پی او زاور ڈی پی اوز کو ہدایت کی کہ کرپشن، اختیارات سے تجاوز اورایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں لہذا شہریوں کی جانب سے بھجوائی گئی شکایات کے بروقت ازالے کو یقینی بنائیں اور جہاں شکایات کے حل میں دانستہ غفلت یا غیر ذمہ داری نظر آئے وہاں ذمہ دار افسریا اہلکار کے خلاف قانونی کاروائی میں ہر گز تاخیر نہ کی جائے۔
ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ 1787 کی گزشتہ سال کی کارکردگی کے جائزہ کے دوران آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے افسران کو وضاحتی لیٹرز جاری کرنے کا حکم دیا تھا اور اس سلسلے میں پنجاب پولیس کے 50 افسران کو وضاحتی لیٹرز جاری کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر صوبہ بھر کے 26 ایس پیز، 3 اے ایس پیز اور 31 ڈی ایس پیز کو وضاحتی لیٹرز جاری ہوئے ہیں جن میں گزشتہ سال لاہور میں تعینات رہنے والے 9 ایس پیز، 15 ڈی ایس پیز اور 2 اے ایس پیز کے وضاحتی لیٹرزشامل ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ شیخوپورہ ریجن کے 2ایس پیز، 5 ڈی ایس پیزکو وضاحتی لیٹرز جاری کیے گئے ہیں۔ گوجرانوالہ ریجن کے 1ایس پی اور 2 ڈی ایس پیزکو وضاحتی لیٹرز جاری کیے گئے۔فیصل آباد کے 2ڈی ایس پیزکو وضاحتی لیٹرز جاری کیے گئے۔ سرگودھا کے 1ایس پی اور 1 ڈی ایس پی کو وضاحتی لیٹرز جاری کیے گئے۔ راولپنڈی ریجن کے 3 ڈی ایس پیزاور 1 اے ایس پی کو وضاحتی لیٹرز جاری کیے گئے۔ ساہیوال ریجن کے 1ایس پی اور 1 ڈی ایس پی کو وضاحتی لیٹرز جاری کیے گئے جبکہ ملتان ریجن کے 2ایس پیز، 2 ڈی ایس پیزکو وضاحتی لیٹرز جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وضاحتی لیٹرزایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، اشتہاری ملزمان کی گرفتاریوں میں غفلت دکھانے،ماتحت عملہ کی جانب سے ناقص تفتیش، جھوٹی ایف آئی آرز کا اندراج اور مال مقدمہ کی برآمدی میں کوتاہی پر جاری کیے گئے اوروضاحتی لیٹرز پر 7 روز کے اندر اندر تسلی بخش جواب نہ دینے والوں کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ آئی جی پنجاب کے ویژن کے مطابق احتساب کا عمل مکمل شفاف اور غیر جانبدار ہے اورتمام قواعد و ضوابط پورے کرنے کے بعد ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
 

(ہینڈ آؤٹ 84 )
اُسامہ محمود
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن
پنجاب پولیس
***************************

 

Press Release Date: 
Tuesday, February 8, 2022